ڈکی بھائی کے کیس کی تازہ ترین قانونی حالت
ڈکی بھائی یعنی سعد الرحمٰن کے خلاف جو قانونی کارروائی اس وقت چل رہی ہے اس کی ابتدا اس گرفتاری سے ہوئی جب انہیں لاہور کے ائیرپورٹ پر ایک تفتیشی عملے نے حراست میں لیا۔ گرفتاری کے بعد انہیں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے حوالے کیا گیا جہاں ابتدائی تفتیش اور شواہد اکٹھے کرنے کا عمل شروع ہوا۔ تفتیشی حکام نے دعویٰ کیا کہ مقدمہ ایک پہلے کی گئی انکوائری کی بنیاد پر کھولا گیا جس میں پتہ چلا کہ بعض یوٹیوبرز اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز نے مختلف آن لائن بیٹنگ یا گیمبلنگ ایپس کی تشہیر کی، اور اسی سلسلے میں متعلقہ افراد کے خلاف قانونی کارروائی شروع کی گئی۔ تفتیش کے دوران ڈکی بھائی کے موبائل فون، لیپ ٹاپ اور دیگر ڈیجیٹل آلات ضبط کیے گئے اور ان کے آن لائن اکاؤنٹس، ٹرانزیکشن ہسٹری اور پروموشن کے ریکارڈ کی تفصیلی جانچ کی جا رہی ہے تاکہ یہ واضح کیا جا سکے کہ آیا وہ محض اشتہاری مواد کی اشاعت کر رہے تھے یا کسی قسم کی کمیشن یا مالی لین دین میں براہِ راست ملوث تھے۔ عدالت میں پیش کیے جانے والے ابتدائی بیانات اور تفتیشی کارروائیوں کے بعد عدالت نے ان کے لیے جیوڈیشل ریمانڈ کا حکم دیا، یعنی انہیں عدالت کے حکم پر جیل بھیجا گیا جہاں وہ آئندہ سماعت تک رہیں گے اور تفتیشی عملہ شواہد اکٹھا کرنے کا کام جاری رکھے گا۔ اس دوران جسمانی ریمانڈ کی کچھ مدتیں بھی منظور کی گئیں تاکہ تفتیشی افسران کو موبائل اور ڈیجیٹل شواہد کی تفصیلی جانچ کا موقع مل سکے، مگر عدالت نے بعض درخواستیں مسترد بھی کیں جن میں ریمانڈ کی غیر معینہ توسیع مانگی گئی تھی۔ وکلاء کی جانب سے عدالت میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ FIR کی بنیاد کمزور ہے، شواہد واضح نہیں کہ صارفین نے حقیقی مالی نقصان اٹھایا، اور یہ بھی دلیل دی گئی کہ جن ایپس کی بات کی جا رہی ہے ان کی قانونی حیثیت یا رجسٹریشن کی صورتِ حال واضح نہیں تھی جب پروموشن کی گئی۔ دفاعی وکیل کا یہ بھی کہنا رہا کہ موکل کا فرار کا کوئی ثبوت موجود نہیں اور وہ سماجی مقام اور شہرت کے باعث ضمانت لینے کے بعد بآسانی عدالت کے سامنے پیش ہو گا، اسی لیے ضمانت کی درخواست دائر کی گئی اور عدالت کے سامنے دفاعِ مؤثر کا موقع مانگا گیا۔ دوسری طرف تفتیشی حکام یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ پروموشن کے پیچھے مالی مفاد تھا، ممکنہ طور پر اسپانسرشپ یا کمیشن کی ادائیگیاں ہوئیں اور کچھ صارفین کو مالی نقصانات ہوئے جن کی تفصیلات بینک یا ڈیجیٹل ٹرانزیکشنز سے حاصل کی جا سکتی ہیں۔ تفتیشی ٹیم بنیادی طور پر تین چیزیں تلاش کر رہی ہے: پروموشن کے لنکس اور ان کے کلک/ریفرل ٹریکز، ادائیگیوں یا کمیشن کی منتقلی کا ریکارڈ، اور ایپ فراہم کنندگان یا ثالثوں کے ساتھ ہونے والے مواصلاتی رابطے۔ اگر یہ شواہد واضح طور پر سامنے آ گئے تو استغاثہ مضبوط مقدمہ درج کر سکے گا، اور پھر چارج شیٹ دائر کر کے قانونی کارروائی آگے بڑھے گی۔ عدالت کے اندر اور باہر عوامی سطح پر اس معاملے پر بحث جاری ہے۔ کچھ حلقے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ انفلوئنسرز اور آپ ڈیجیٹل مواد پیدا کرنے والے افراد کو زیادہ ذمہ دار بنایا جانا چاہیے اور اشتہاری مواد کی شفافیت کو یقینی بنانا چاہیے تاکہ نوجوان خاص طور پر گھبراہٹ یا غلط فہمیاں نہ پھیلائیں۔ وہ لوگ جن کا مؤقف یہی ہے، کہتے ہیں کہ کسی بھی اشتہار یا پروموشن کے دوران اس بات کی صریح نشاندہی ہونی چاہیے کہ یہ تشہیری مواد ہے اور اس میں حصّہ لینے کے ممکنہ خطرات واضح طور پر صارفین کو بتا دیے جائیں۔ دوسری جانب کچھ مبصرین اور ڈیجیٹل حقوق کے گروپس نے اس واقعے کو ریاستی اداروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے اظہارِ رائے اور آن لائن سرگرمیوں پر ممکنہ غیر متناسب سختی کے طور پر بھی دیکھا ہے اور وہ یہ کہتے ہیں کہ شواہد کے بغیر کسی کو سخت سزا یا طویل حراست میں رکھنا آزادیِ اظہار کے لیے خطرناک مثال بن سکتا ہے۔ ان دلائل کے مطابق ضروری ہے کہ تفتیش شفاف، معروضی اور شواہد پر مبنی ہو تاکہ کسی بھی ممکنہ غلط فہمی یا سیاسی دباؤ کو بنیاد نہ ملے۔ آئندہ عدالتی مراحل میں چند کلیدی عوامل کردار ادا کریں گے: ایک تو ضبط کیے گئے ڈیجیٹل آلات کا تجزیہ اور ان میں سے ملنے والا ڈیٹا؛ دوسرا بینک اور ادائیگیوں کا ریکارڈ جو بتائے گا کہ آیا مالی ادائیگیاں ہوئی تھیں یا کسی قسم کی کمیشن ٹرانزیکشنز موجود تھیں؛ تیسرا ان کمپنیوں یا ایپ فراہم کنندگان کے ساتھ روابط جو یہ ثابت کریں کہ پروموشن کے پیچھے کمپنیوں کا براہِ راست یا بالواسطہ عمل دخل تھا یا نہیں۔ اگر تفتیش ثابت کر دے کہ واضح طور پر فراڈ یا دھوکہ دہی ہوئی تو عدالتیں زیادہ سخت رویہ اختیار کر سکتی ہیں، مگر اگر شواہد ثبوتی طور پر کمزور نکلیں تو مقدمہ کمزور ہو گا اور موکل کو ضمانت ملنے یا چارجز کم ہونے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔ قانونی نقطۂ نظر سے یہ کیس اہم ہے کیونکہ اس سے انفلوئنسر مارکیٹنگ، آن لائن پروموشنز اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی ضابطہ بندی کے حوالے سے مستقبل میں بننے والی پالیسیوں پر اثر پڑ سکتا ہے؛ برانڈز اور اسپانسرز بھی اس کے بعد اپنے معاہدوں میں زیادہ احتیاط کریں گے اور اشتہاری شفافیت کے ضوابط کو سختی سے نافذ کرنے کا رجحان بڑھے گا۔ مجموعی طور پر یہ معاملہ نہ صرف ایک فرد کی قانونی لڑائی ہے بلکہ ایک بڑے سماجی اور قانونی مباحثے کا آغاز بھی ہے جس میں آن لائن مشمولات کی ذمہ داری، صارفین کے حقوق اور ریاستی اداروں کی نگرانی کے حدود پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ آئندہ سماعتوں میں جہاں عدالت NCCIA کی مکمل تفتیشی رپورٹ اور ضبط شدہ ڈیجیٹل شواہد کا تجزیہ دیکھے گی، وہاں وکلاء کی دلائل اور ممکنہ مفاہمت یا تکنیکی دفاعی نکات بھی فیصلہ ساز ہوں گے۔ یہ معاملہ اس لیے بھی نگریں اٹکائے رکھتا ہے کہ اس کے نتائج مستقبل میں آن لائن انفلوئنسر کلچر کے دائرہ کار کو واضح کریں گے اور اس بات کا تعین کریں گے کہ کن حالات میں پروموشن قانونی نوعیت اختیار کر جاتی ہے اور کن میں وہ صرف اشتہاری یا انفلوئنسنگ سرگرمی رہ جاتی ہے۔